میڈیکل ریپ کیساتھ بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی۔ فارما سیوٹیکل کمپنی کے نمائندوں کے نام۔
اسلام علیکم دوستو۔ پاکستان میں جہاں کئ قسم کے شعبہ جات لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں وہیں ایک شعبہ دوا ساز ادارے ہیں جو نوجوانوں کی ایک کسیر تعداد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ دوا ساز ادارے اپنے ملازمین کو ایک اچھا روزگار مہیا کر رہے ہیں اور معاشرے کی صحت کے حوالے سے انتہائ اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ دوا ساز اداروں میں ایک اہم ترین شعبہ ہے مارکیٹنگ اور سیلز کا۔اگر یہ کہا جائے کہ مارکیٹنگ اور سیلز دوا ساز اداروں کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ مارکیٹنگ اور سیلز سے وابستہ لوگ اپنا دن اور رات ایک کر کے کمپنیز کیلئے دوا کو بیچتے ہیں اور اپنے ادراے میں موجود لوگوں کیلئے پیسہ کی گردش کا سبب بنتے ہیں۔
دواؤں کی مارکیٹنگ اور سیلز سے وابستہ لوگوں کو آپ ایک عام اطلاح میں ''میڈیکل ریپ" کے نام سے جانتے ہیں۔ میڈیکل ریپ کو اپنے کام کو صبح و شام دونوں اوقات میں کرنا ہوتا ہے۔ کہنے کو تو اسکا کام صرف ڈاکٹر کو ملنا اور اپنی دوا کے فوائد بتانے ہوتے ہیں تاکہ مریض کو اسکا فائدہ ملے اور مریض کیساتھ کمپنی کی دوا فروخت ہو سکے مگر در حقیقت اس فائدے کو بتانے اور کمپنی کی دوا فروخت ہونے میں ایک لمبی مسافت طے کرنی پڑتی ہے اور مسافت میں بیرونی اور اندرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کا یہ آرٹیکل اندرونی دباؤ سے نمٹنے کیلئے آپکو کافی مدد دے گا۔
فارما سے تعلق رکھنے والے لوگ اندرونی دباؤ کو اچھی طرح طرح سے سمجھتے ہوں گے۔ اس مضمون میں ترتیب کے حساب سے اس دباؤ کی تفصیلات اور ان سے نمٹنے کا طریقہ بتاؤں گا۔
سب سے پہلے تو جیسا کے آپ جانتے ہیں قرنطینہ کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں آپکے پاس بہترین موقعہ ہے کے اپنی سیلز کو اسکے اصل لیول تک آنے دیں۔ سیلز میں کمی کیلئے آپ پر ضرور دباؤ ڈالا جائے گا اسکیلئے آپنے صرف اتنا کہنا ہے کے لاک ڈاؤن کیوجہ سے یہ میرے لئے ممکن نہیں جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہو گا میں اس شکائت کا ازالا کر دوں گا۔ اب آتے ہیں لاک ڈاؤن کے اختتام کی پلاننگ کی طرف۔ ہم سب جانتے ہیں کے جب بھی کوئ کمپنی جوائن کرتے ہیں تو ایک بات لازمی آپکے گوش گزار کی جاتی ہے کے کمپنی کبھی بھی سیلز پر بندہ فارغ نہیں کرتی اور یہ حقیقت بھی ہے لیکن وقت کیساتھ کیساتھ یہ بات ہمارے دل و دماغ کے کسی نہاں خانے میں جا بستی ہے اور ڈاکٹر سے ملنے کی بجاۓ ہم پارٹیز کو ملنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور یہیں سے ہمارے ذہنی سکون کا خاتمہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو کرنا یہ ہے کے پہلے دن والی بات کے کمپنی سیلز پر نہیں نکالتی تو پھر کس بات پر نکالتی ہے؟ وہ ہے ہماری ورکنگ جب ہر طرح کی بلیک میلنگ بھی آپکو دو نمبر سیلز پر مجبور نہیں کر سکے گی تو پھر باری آئے گی آپکی ورکنگ کی اور یہی وہ پوائنٹ ہے جو آپکو کمپنی سے نکالنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ تو اس سے بچنے کا آسان حل ہے ایک موؤثر ورکنگ پلان۔ سب سے پہلے اپنا ماہانہ پلان ترتیب دیں۔ اور یہ ماہانہ پلان آپ خود ترتیب دیں کیونکہ آپکے ورکنگ ایریا کو آپ سے بہتر کوئ نہیں جانتا۔ پھر آتا ہے آپکا ہفتہ وار پلان یعنی ڈاکٹر کوریج کا پلان اسکے لئے سب سے پہلے آپ اپنی ڈاکٹر لسٹ ترتیب دیں مطلب آپ کتنے ڈاکٹرز پر کام کریں گے عموماً ڈاکٹر لسٹ میں ڈاکٹرز کی تعداد کمپنی طے کرتی ہے تو آپ اپنی لسٹ میں اسی تعداد کے مطابق ڈاکٹرز کو ایڈ کر لیں اور یہ لسٹ اپنے سینئرز کیساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ کل کو انہیں شکایت نہ ہو۔ شیئر کرنے کیلئے ای میل کا سہارا لیں تاکہ آپکے پاس سند رہے۔ پھر اس لسٹ میں ڈاکٹر کے نام کے آگے وہ دن لکھ دیں جس دن آپنے اس ڈاکٹر کو ملنا ہے یا اس ڈاکٹر نے ملنے کا دن مختص کیا ہے۔ عموماً ڈاکٹرز کو تین کلاسز میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک وہ جنہیں مہینے میں چار دفعہ ملنا ہوتا ہے دوم تین دفعہ اور سوم دو دفعہ۔ اب آپ دو سفید کاغذ لیں اور ان پر دو ہفتوں کے کالم بنا لیں فی صفحہ چھ چھ کالم مطلب پیر سے ہفتہ۔ اب ان کالمز میں ڈاکٹر کو اسکے ملنے کے دن کے حساب سے ڈال دیں اسطرح آپکا دو ہفتہ کا ورکنگ پلان تیار ہو جائے گا اور پھر یہی پلان تیسرے اور چوتھے ہفتے میں کاپی ہو جائے گا۔ اب جیسے ہی آپکی ورکنگ لاک ڈاؤن کیبعد شروع ہوتی ہے تو سختی سی اس پلان پر عمل پیرا ہو جائیں۔ اس دوران آپکو پھر سے ایک انتہائ ذبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا جسکی خاص منطق یہ ہوگی کہ لاک ڈاؤن سے پہلے جو سیلز تھیں اتنی چاہئیں تو اسکا سادہ سا جواب دیں کے سر مہینہ دو مہینہ کاروبار زندگی بند تھے تو کوشش جاری ہے بہت جلد ہم پرانی سیلز کر رہے ہوں گے۔ دوسرا دباؤ یہ ہوگا کے کمپنی یا اوپر والے برداشت نہیں کر رہے سیلز کو دیکھو تو اس پر بھی انتہائ مودبانہ کہیں کے سر آپکی بات بجا ہے اور یہ ہم ہی نے کرنا ہے تو تھوڑا ٹائم دیں ہو جائے گا اس دوران جو پلان ترتیب دیا ہے اس پر کاربند رہیں ایک سے دو ملاقاتوں میں ڈاکٹر کو بھی آپکی شکل یاد ہو چکی ہو گی اور دباؤ شدت اختیار کر رہا ہوگا۔ ڈاکٹر چیمبر میں آپکی حاضری آپکا سب سے بڑا ہتھیار ہو گی سو اب آپ نے بال مخالف کے کورٹ میں ڈال دینی ہے کے سر میں اپنی سی پوری کوشش کر رہا ہوں مزید آپ بتائیں کیا کرنا چاہئے؟ پھر جو بھی احکامات صادر ہوں جی سر اب ایسے ہی کروں گا. یاد رہے کسی بات میں بحث نہیں کرنی بس یس سر کہتے رہیں اور اپنے پلان پر کام کرتے رہیں۔ دو سے تین ماہ کے عرصے میں آپکی ورکنگ کے رزلٹ آنے لگ جائیں گے اور آپکے لئیے سہولت ہونا شروع ہو جائے گی۔ ایک اور بلیک میلنگ جسکا سامنا آپکو کرنا پڑ سکتا ہے وہ یہ کے کمپنی چھوڑ دیں یا کوئ اور کمپنی دیکھ لیں۔ تو اسکا جواب ہے کہ سر اگر میں اپنا کام پوری ایمانداری سے کر رہا ہوں اور مجھے کام کرنے کے پیسے ملتے ہیں اگر میری ورکنگ میں کوئ کمی ہے تو بتائیں؟ یا کمپنی سے کہیں مجھے خود جبراً فارغ کر دے یا سر آپ مجھے میل کر دیں وجہ کے ساتھ میں کمپنی چھوڑ دوں گا۔ اول تو ایسا وہ کریں گے نہیں اور اگر کرتے ہیں تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے. آپکا کیس مضبوط ہو جائے گا اور آپ کسی بھی کورٹ یا ایچ آر کو اس سے متعلق آگاہ کر کے اپنی پوزیشن کلئیر کر سکتے ہیں۔ یاد رہے آپ نے کسی صورت استعفیٰ وغیرہ نہیں دینا۔ ہہر طرف سے میوس ہونے کیبعد اب آپکے ساتھ ورکنگ کا آغاز ہو گا جو آپ پہلے ہی پوری تندہی سے کر رہے ہونگے۔ڈاکٹر کا رویہ آپکے سینئیر کو برانے کیلئے کافی ہوگا کے آپ ڈاکٹر کو مل رہے ہیں یا نہیں دوسرا مستقل ملنے کیوجہ سے آپکے اعتماد میں بھیاضافہ ہو چکا ہوتا ہے رو آپ ڈاکٹر سے ایک دو سوال کر کے اپنی پوزیشن کو اور مضبوط کر سکتے ہیں۔
اگر آپ پہلے سے ایسا کر رہے ہیں تو اپنے ساتھیوں کو بھی گائڈ کریں اور نہیں تو قرنطینہ میں آپکے پاس بہترین ٹائم ہے اپنی ورکنگ کو درست سمت میں لے جانے کا۔ اگر آپکو ابھی تک ایسی کسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تو ان باتوں کو یاد رکھیں کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امید ہے یہ مضمون آپکے لئیے مددگار ثابت ہو گا۔
کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
یہ بھی پڑھیں۔ میڈیکل ریپ اور سٹاک انفلٹریشن۔
Click here to buy VIAGRA and CIALIS at cheap rates.
یہ بھی پڑھیں۔ میڈیکل ریپ اور سٹاک انفلٹریشن۔
Click here to buy VIAGRA and CIALIS at cheap rates.
Comments
Post a Comment
Your feedback is our key to improve.