اسلام علیکم دوستو۔ میری پہلی پوسٹ میڈیکل ریپ سے بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی کے دوسرے حصے کیساتھ حاضر ہوں۔ پوسٹ کا مقصد میڈیکل ریپ کو ایک اجتماعی شعور دینا ہے کے کسطرح سے غیر یقینی و غیر فطری حالات سے نمٹنا ہے اور مزید بر آں کے آپکے حقوق کیا ہیں اور انکا دفاع کیسے کرنا ہے اگر آپ نے پہلی پوسٹ نہیں پڑھی تو نیچے لنک دے دیا ہے برائے مہربانی اپنے فارما کے علم میں اضافے کیلئے ضرور پڑھیں۔ پہلا سین۔ علی یار اپنی سیلز کو دیکھو بہت کم ہیں کمپنی کی طرفسے کافی دباؤ ہے۔ بس یوں سمجھ لو تمہاری سپورٹ چاہئے۔ جی باس میں دیکھتا ہوں کچھ کرتا ہوں۔ دو دن بعد، ہاں علی کیا بنا سیلز کا۔ جی سر ایک آرڈر ہے آج یا کل میں کروا دوں گا۔ گڈ یار بس دیکھ لینا سٹاک پکڑا گیا تو میں ذمہ وار نہیں اور کمپنی بھی بلکل آسرا نہیں کرتی انفلٹریشن پر۔ دوسرا سین۔ علی آپکی سیلز پچھلے مہینے سے ڈاؤن ہیں انکو دیکھو۔ جی سر دیکھی ہیں کم ہیں سر لیکن اسمیں میرا کیا قصور سر؟ ڈاکٹر نے پچھلے ماہ لکھی تھی اس ماہ نہیں لکھی میں نے درخواست بھی کی ڈاکٹر سے مگر نہیں لکھ رہا۔ یار کمپنی باتیں نہیں سنتی انکو بس سیلز چاہیئں اسکی جیس...
گزشتہ برس دسمبر میں چین سے منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے ایک سو نناوے ممالک میں 42000 سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ آٹھ لاکھ بہتر ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اس کورونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دے کر خبر دار بھی کر چکی ہے کہ اگر دنیا نے وائرس پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو اس سے پوری عالم انسانیت کو خطرہ ہے اور لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ یو این کی جانب سے امیر ممالک سے اپیل بھی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے غریب ممالک کو بارہ ارب ڈالر امداد کی فوری ضروت ہے۔ گزشتہ روز یورپی ممالک میں وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ کی گئی جب کہ امریکا ایک ہی روز میں آٹھ سو ہلاکتوں کے بعد اموات کے اعتبار سے چین سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سات سو سے زائد ہو چکی ہے جب کہ چین جہاں دنیا میں سب سے پہلے وائرس آیا تھا وہاں اموات کی تعداد تین ہزار دو سو بیاسی ہے۔ اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ...
اگر آپ کو کھانسی ہو رہی ہے یا چھینکیں آرہی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اگر آپ کی ناک بند ہے اور آنکھوں میں خارش محسوس ہورہی ہے تو اس کا مطلب بھی ہرگز یہ نہیں کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ اگر آپ کو خشک کھانسی، تھکاوٹ اور بخار کا سامنا ہے، تو پھر ضرور کووڈ 19 کا شک کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی عام فلو کی علامات ہیں تو پھر کورونا وائرس کی واضح علامات کی ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جب یہ وائرس انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے تو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ عام علامت نمونیا سے قبل سامنے آتی ہے۔ عام طور پر فلو یا نزلہ زکام میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک نمونیا کا مرض نہ ہوجائے۔ ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کووڈ 19 سے بہت ملتا جلتا مرض ہے مگر سانس لینے میں مشکل کا مسئلہ اس میں اتنا زیادہ نہیں ہوتا جتنا کووڈ 19 کے مریضوں کو ہوتا ہے۔ نئے کورونا وائرس کے شکار افراد میں عموماً سانس لینے میں مشکل کا سامنا مریض کو پہلی علامت بخار ہونے کےپانچ سے دس دن کے دوران ہوتا ہے۔ واضح رہے چھینکنا، ناک بہنا، چہرے میں تکلیف ا...
Comments
Post a Comment
Your feedback is our key to improve.