پاکستان سمیت دنیا بھر میں ناول کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کی کیسز اور شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافے نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واقعی دنیا نے اس مہلک ترین وائرس کے خلاف چین کی فراہم کردہ قیمتی مہلت ضائع کردی؟ اس سوال کے پس پردہ چند حقائق ہیں جن سے آگاہی لازم ہے۔ دسمبر 2019 کے اواخر میں چین کے صوبہ ہوبے اور ووہان شہر میں ناول کورونا وائرس کے کیس سامنے آنا شروع ہوئے۔ چین نے جنوری 2020 کے آغاز میں ہی عالمی ادارہ صحت اور امریکا سمیت دیگر اہم ممالک کے ساتھ وائرس (پیتھوجن) سے متعلق بنیادی معلومات کا فوری تبادلہ کیا تاکہ دنیا کو آنے والے خطرے سے خبردار کیا جا سکے۔ 23 جنوری کو چین نے ووہان کو مکمل طور پر بند کردیا تاکہ اندرون چین سمیت دیگر دنیا میں لوگوں کی آمدورفت روکی جا سکے اور ووہان کو ناول کورونا وائرس کا مرکز قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کا آغاز کیا گیا۔ اس سارے عرصے کے دوران چند مغربی ممالک نے ووہان کی بندش کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا جبکہ ’’لاک ڈاؤن‘‘ کا یہی ماڈل آج دنیا بھر میں انتہائی مؤثر قرار دیتے ...
برطانیہ میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ آپ جتنے قد میں چھوٹے ہوتے ہیں، آپ کو اتنا ہی زیادہ دل کی بیماری کا خطرہ رہتا ہے۔ انھوں نے 2 لاکھ افراد پر تحقیق کر کے ان کے ڈی این اے کے اس حصے کا پتہ لگایا جو قد اور دل کی صحت کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماری کا امکان 13.5% کم ہو جاتا ہے۔ تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ چھوٹے قد کے افراد کو اس سے غیر ضروری طور پر پریشان نہیں ہونا چاہیے اور ہر کسی کو صحت مندانہ طرز زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں دل کی بیماری، جس میں دل کا دورہ اور ہارٹ فیلیئر شامل ہیں، اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہر سال اس سے یہاں000 73 سے زیادہ افراد کی موت ہوتی ہے۔ 50 سال پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ دل کی صحت میں انسانی قد کا کلیدی کردار ہے لیکن تحقیق کاروں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ کئی اور وجوہات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے جیسا کہ بچن میں غذا کی کمی سے قد پر اثر پڑتا ہے جس کا اثر دل پر ہو سکتا ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف لیسٹر کی ت...
گزشتہ برس دسمبر میں چین سے منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے ایک سو نناوے ممالک میں 42000 سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ آٹھ لاکھ بہتر ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اس کورونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دے کر خبر دار بھی کر چکی ہے کہ اگر دنیا نے وائرس پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو اس سے پوری عالم انسانیت کو خطرہ ہے اور لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ یو این کی جانب سے امیر ممالک سے اپیل بھی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے غریب ممالک کو بارہ ارب ڈالر امداد کی فوری ضروت ہے۔ گزشتہ روز یورپی ممالک میں وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ کی گئی جب کہ امریکا ایک ہی روز میں آٹھ سو ہلاکتوں کے بعد اموات کے اعتبار سے چین سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سات سو سے زائد ہو چکی ہے جب کہ چین جہاں دنیا میں سب سے پہلے وائرس آیا تھا وہاں اموات کی تعداد تین ہزار دو سو بیاسی ہے۔ اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ...
Comments
Post a Comment
Your feedback is our key to improve.