امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو بڑی دھمکی دے دی ،ایران ،عراق میں امریکی فوج یا تنصیبات کو اگر نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اُسے اِس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی ،کورونا کے خلاف ہر محاذ پر پوری طاقت سے لڑ رہے ہیں اور عوام کی طاقت سے جلد اس عالمی وبا کے خلاف کامیابی حاصل کر لیں گے ۔تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران ،عراق میں امریکی فوجیوں یا امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اسُے اِس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی دوسری طرف وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ہر ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے لڑ رہے ہیں اور امریکی عوام کی مدد سے اس وبا کے خلاف مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنے ملک کی طبی سامان بنانے والی کمپنیوں ،سپلائرز اور صنعت کاروں ک...
کورونا وائرس: بیماری سے بچاؤ اور علاج کے وہ چھ جعلی مشورے جنھیں آپ کو نظر انداز کرنا چاہیے کورونا وائرس بہت تیزی سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور اب تک اس کا مصدقہ علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے آن لائن طبی مشورے دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض مشورے بیکار مگر بےضررسے ہیں مگر بعض انتہائی خطرناک۔ ہم نے بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کیے جانے والے اس نوعیت کے دعوؤں کا جائزہ لیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ ۔ لہسن سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر بہت سی ایسی پوسٹس شیئر کی گئی ہیں جن میں تجویز دی گئی ہے کہ لہسن کھانا انفیکشن کی روک تھام میں مدد گار ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ لہسن ’ایک صحت بخش غذا ہے جس میں کچھ اینٹی مائیکروبائل (جراثیم کے خلاف مدافعت) خصوصیات ہو سکتی ہیں‘ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لہسن کھانے سے لوگوں کو کورونا وائرس سے تحفظ مل سکتا ہے۔ اس طرح کا علاج اس وقت تک مضر صحت نہیں ہے جب تک آپ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس حوالے سے...
اگر آپ کو کھانسی ہو رہی ہے یا چھینکیں آرہی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اگر آپ کی ناک بند ہے اور آنکھوں میں خارش محسوس ہورہی ہے تو اس کا مطلب بھی ہرگز یہ نہیں کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ اگر آپ کو خشک کھانسی، تھکاوٹ اور بخار کا سامنا ہے، تو پھر ضرور کووڈ 19 کا شک کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی عام فلو کی علامات ہیں تو پھر کورونا وائرس کی واضح علامات کی ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جب یہ وائرس انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے تو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ عام علامت نمونیا سے قبل سامنے آتی ہے۔ عام طور پر فلو یا نزلہ زکام میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک نمونیا کا مرض نہ ہوجائے۔ ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کووڈ 19 سے بہت ملتا جلتا مرض ہے مگر سانس لینے میں مشکل کا مسئلہ اس میں اتنا زیادہ نہیں ہوتا جتنا کووڈ 19 کے مریضوں کو ہوتا ہے۔ نئے کورونا وائرس کے شکار افراد میں عموماً سانس لینے میں مشکل کا سامنا مریض کو پہلی علامت بخار ہونے کےپانچ سے دس دن کے دوران ہوتا ہے۔ واضح رہے چھینکنا، ناک بہنا، چہرے میں تکلیف ا...
Comments
Post a Comment
Your feedback is our key to improve.