دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 4 لاکھ 38000 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ وائرس سے تقریباً 20000 ہلاکتیں ہو چکی ہیں. برطانیہ کے شہزادہ چارلس میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب انڈیا میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے اور آئندہ 21 روز تک ملک کی 1.3 ارب سے زائد آبادی گھروں میں رہے گی۔
پاکستان:- کورونا وائرس کیخلاف ٹائیگر فورس میں رضاکاروں کی رجسٹریشن سٹیزن پورٹل کے ذریعے31 مارچ کو شروع کی جائے گی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی امورنوجوان عثمان ڈار کو ٹائیگر فورس کے متعلق اہم ذمہ داریاں مل گئی ہیں اور انہوں نے کام شروع کر دیا ہے۔ ایک نیوز کے مطابق ڈیجیٹل فارم تیار کرلیا گیا ہے جو اکتیس مارچ کو سٹیزن پورٹل پر اپ لوڈ کردیا جائے گا۔ فارم میں نام ،پتہ، عمر، موبائل نمبر یونین کونسل و ضلع کی تفصیلات شامل ہوں گی- ٹائیگرز فورس کے لیے رضاکار وں کی رجسٹریشن 10 اپریل تک مکمل ہوجائے گی اور اس فورس کی تشکیل ہر یونین کونسل میں کی جائے گی۔ ٹائیگرز فورس میں 18 سال سے زائد عمر کے نوجوان بلاتفریق رجسٹریشن کرا سکیں گے اور کسی بھی سیاسی جماعتوں کے نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ مذکورہ فورس تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کرے گی۔ ملک بھر کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا جائے گا۔
اگر آپ کو کھانسی ہو رہی ہے یا چھینکیں آرہی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اگر آپ کی ناک بند ہے اور آنکھوں میں خارش محسوس ہورہی ہے تو اس کا مطلب بھی ہرگز یہ نہیں کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ اگر آپ کو خشک کھانسی، تھکاوٹ اور بخار کا سامنا ہے، تو پھر ضرور کووڈ 19 کا شک کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی عام فلو کی علامات ہیں تو پھر کورونا وائرس کی واضح علامات کی ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جب یہ وائرس انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے تو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ عام علامت نمونیا سے قبل سامنے آتی ہے۔ عام طور پر فلو یا نزلہ زکام میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک نمونیا کا مرض نہ ہوجائے۔ ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کووڈ 19 سے بہت ملتا جلتا مرض ہے مگر سانس لینے میں مشکل کا مسئلہ اس میں اتنا زیادہ نہیں ہوتا جتنا کووڈ 19 کے مریضوں کو ہوتا ہے۔ نئے کورونا وائرس کے شکار افراد میں عموماً سانس لینے میں مشکل کا سامنا مریض کو پہلی علامت بخار ہونے کےپانچ سے دس دن کے دوران ہوتا ہے۔ واضح رہے چھینکنا، ناک بہنا، چہرے میں تکلیف ا...
Comments
Post a Comment
Your feedback is our key to improve.