Posts

کورونا وائرس۔ 6 خطرناک طبی مشورے۔ ان سے بچ کر رہیں۔

Image
کورونا وائرس: بیماری سے بچاؤ اور علاج کے وہ چھ جعلی مشورے جنھیں آپ کو نظر انداز کرنا چاہیے کورونا وائرس بہت تیزی سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور اب تک اس کا مصدقہ علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے آن لائن طبی مشورے دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض مشورے بیکار مگر بےضررسے ہیں مگر بعض انتہائی خطرناک۔ ہم نے بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کیے جانے والے اس نوعیت کے دعوؤں کا جائزہ لیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ ۔ لہسن سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر بہت سی ایسی پوسٹس شیئر کی گئی ہیں جن میں تجویز دی گئی ہے کہ لہسن کھانا انفیکشن کی روک تھام میں مدد گار ہو سکتا ہے۔    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ لہسن ’ایک صحت بخش غذا ہے جس میں کچھ اینٹی مائیکروبائل (جراثیم کے خلاف مدافعت) خصوصیات ہو سکتی ہیں‘ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لہسن کھانے سے لوگوں کو کورونا وائرس سے تحفظ مل سکتا ہے۔ اس طرح کا علاج اس وقت تک مضر صحت نہیں ہے جب تک آپ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس حوالے سے...

خبردار۔ آپکے جوتے کورونا وائرس کا سبب بن سکتے ہیں۔

Image
کورونا وائرس کپڑے، ربڑ اور چمڑے سمیت ہر طرح کے جوتوں اور چپلوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر باہر سے آئیں تو لازمی طور پر جوتوں کو گھر سے باہر ہی اتاری اور پھر انہیں اچھی طرح دھوئیں۔جوتوں کو جراثیم کش ادویات سے صاف کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔جبکہ ایسے افراد جن کا باہر جانا ضروری ہے انہیں ایک اضافی جوڑی خریدنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے جسے وہ صرف باہر جاتے وقت ہی استعمال کرسکیں، تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس چوبیس گھنٹوں تک گتے پر جبکہ اسٹین لیس سٹیل اور پلاسٹک پر 3 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ کوروناوائرس اس وقت پوری دنیامیں پھیل چکا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف احتیاط کرنے سے ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اب تک ہزاروں افراد مہلک وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔جب کہ لاکھوں افراد  اس وائرس کا شکار ہیں۔ یہ بھی پڑھیں۔اب کورونا کو خود چیک کریں

کورونا وائرس:'' فٹبال میچ یا کورونا بم"

Image
 اٹلی میں کورونا وائرس کے مقامی طور پر منتقل ہونے والے پہلے کیس کی تصدیق ہونے سے دو دن قبل اٹلانٹا اور والنسیا کے درمیان فٹ بال کھیل کا انعقاد کیا گیا۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ پچھلے مہینے فٹ بال کا ایک میچ "حیاتیاتی بم" تھا جس نے شمالی اٹلی میں برگامو کو کورونا وائرس کا مرکز بننے میں مدد فراہم کی۔ ملک میں مقامی طور پر منتقل ہونے والے کورونا کے پہلے کیس کی تصدیق ہونے سے دو دن قبل اٹلانٹا کے شہر برگامو میں چیمپئنز لیگ کا مقابلہ ہوا ، جسے مقامی میڈیا نے "گیم زیرو" قرار دیا ہے۔ لمبرڈی کے علاقے برگیمو صوبے کی آبادی کے ایک تہائی سمیت 44،000 سے زیادہ مداحوں نے 19 فروری کو میلان کے سان سیرو اسٹیڈیم میں آخری 16 مرحلے میں شرکت کی۔ اسے اٹلانٹا کی تاریخ کا سب سے بڑا کھیل قرار دیا گیا تھا۔ ہسپانوی کلب کے قریب 2500 شائقین نے بھی یہ مرحلہ دیکھا ۔ میچ دیکھنے کے لئے مزید لوگ گھروں ، باروں اور کلبوں میں جمع ہوگئے  ، جو اٹلانٹا نے 4-1 سے جیتا تھا ، جس نے گراؤنڈ کے اندر اور باہر ٹیلیویژن پر خوش کن مناظر کو جنم دیا تھا۔ کھیل کے ایک ہفتہ سے بھی کم کے بعد...

ایک لاکھ کورونا کیسز ، دنیا کا پہلا ملک۔ سینکڑوں لوگ لقمہ اجل۔

Image
امریکی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق امریکہ میں کورونا کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جو کہ ا لاکھ سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اور یہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ رپورٹ کی مطابق جمعہ کو 15000 کیسز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوی تھی جو کہ جمعرات کو رپورٹ ہونے والے 16000 کیسز سے کم تھی جبکہ جمعہ کی رات کو ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد 6000 تھی جن میں سے 1600 مریض شعبہ انتہائ نگہداشت میں داخل تھے جبکہ 519 اموات بھی رجسٹر ہوئیں۔ 44000 سے ذائد کیسز میں کورونا انفیکشن پایا گیا۔ نیو یارک سمیت انفیکشن سے متاثرہ علاقوں کے ہسپتالوں نے دواؤں اور دوسرے طبی آلات کی کمی کا سگنل دے دیا ہے۔ جبکہ یو ایس نیوی نے ایک عدد بحری جہاز کو ساحل سمندر پر لنگر انداز کر کے قرنطینہ کا درجہ دے دیا ہے جسمیں 1000 مریضوں کی گنجائش ہے۔

دواؤں کی عدم دستیابی ، قلت یا مہنگائ۔ اب کوئی مسئلہ نہیں۔

Image
مخصوص دوا کی عدم دستیابی یا کمی ہمیشہ  ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ اس مسئلے کے ساتھ ہی ایک اور اہم مسئلہ دوائیوں کی زیادہ قیمتیں ہیں جو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ لیکن اب قلت یا عدم دستیابی اور قیمتیں کوئی مسئلہ نہیں ہیں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کس طرح دوائیوں کی قلت اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں سے بچ سکتے ہیں۔ پہلے دوائیوں کی قلت کی طرف آتے ہیں۔ آئیے ایک مثال لیتے ہیں جس کا میں عام طور پر حوالہ دیتا ہوں دودھ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سی کمپنیاں ہیں جو اپنا دودھ مختلف ناموں کے ساتھ مارکیٹ میں پیش کرتی ہیں۔ صرف ناموں کے فرق ہیں لیکن مرکب ایک ہی ہے جو یقینا دودھ ہے۔ مثال کے طور پر ، اولیپر ، ترنگ ، ملک پیک وغیرہ برانڈ کے نام ہیں جبکہ ان میں دودھ ہوتا ہے۔  ادویات کا بھی یہی حال ہے۔ ایک ہی مرکب کے ساتھ سیکڑوں برانڈز ہیں۔ آپ کو اس مرکب کی شناخت کرنی ہوگی جس کا نام ہمیشہ برانڈ نام کے نیچے ہوتا ہے۔( واضح سمجھ کے لئے تصویر دیکھیں)۔  مخصوص برانڈ کی کمی کی صورت میں آپ  فارماسسٹ سےصرف اتنا کہیں کہ آپ کو کوئی متبادل یا دوسرا برانڈ  دیں۔ اب قیمت کے بارے میں آتے ہی...

بچے کو جنم دینے سے چند گھنٹے پہلے بھارتی خاتون ڈاکٹر نے کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹ تیار کرلی

Image
پونے  کورونا وائرس کے خلاف جنگ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکے ہی جیتی جاسکتی ہے لیکن انڈیا میں ٹیسٹوں کی کمی کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا تھا ۔ اب انڈیا کی ہی ایک خاتون ڈاکٹر نے بچے کو جنم دینے سے چند گھنٹے پہلے مقامی سطح پر ٹیسٹنگ کٹ تیار کرکے انڈیا کا بڑا مسئلہ حل کردیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے سے تعلق رکھنے والی وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر منال داکھوے بھوسلے نے ٹیسٹنگ کٹ تیارکی ہے جو اب مارکیٹ میں بھی آچکی ہے۔ پونے شہر کی مائی لیب ڈسکوری کمپنی کو ٹیسٹنگ کٹ کے حقوق مل گئے ہیں اور انہوں نے پہلے مرحلے میں 150 ٹیسٹنگ کٹس تیار کرکے پونے ، ممبئی ، نئی دلی، گووا اور بینگلور بھجوادی ہیں۔ انڈیا کو کورونا وائرس کی درآمدی ٹیسٹنگ  کٹ 4500 روپے کی بنتی ہے لیکن ڈاکٹر منال بھوسلے کی بنائی گئی کٹ کی قیمت صرف 1200 روپے ہے اور اس کے ذریعے 100 ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ایک مریض کے ٹیسٹ پر صرف 12 روپے کی لاگت آئے گی۔ منال بھوسلے کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کٹ تیار کرنے میں تین سے چار مہینے لگنے تھے لیکن ان کی ٹیم نے ریکارڈ مدت یعنی چھ ہفتے می...

شوگر کے مریضوں کیلئے حیرت انگیز خوراک۔

Image
ذیابطیس کے مریض یہ غذا استعمال کریں۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ سبزیوں کا نہ استعمال ہونا ہے اور انہی بہت سی بیماریوں میں سے ایک انتہائ خطرناک حد تک بڑہتی بیماری ہے شوگر۔ اور شوگر کو کنٹرول رکھنے میں سبزیوں کا استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی سبزیوں میں سے ایک سبزی ہے بھنڈی۔  بھنڈی ایک ایسی سبزی ہے جوکم و بیش ہر موسم میں دستیاب ہوتی ہے، لذیذ ذائقے کے ساتھ  ساتھ ذیابیطیس کے مریضوں کے لیے اس کی افادیت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ بھنڈی میں موجود فائبر ہاضمے کو مدد دیتا ہے اور پوٹاشیم بلڈ پریشر کو مستحکم کرتا ہے، اس کےساتھ ساتھ بھنڈی کھانے سے بھوک  دیر سے لگتی ہے جو جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دیتی ہے۔ علاوہ ازیں اسے اپنی غذا کا لازمی جزو بنانا بلڈ شوگر لیول اور ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ بھنڈی  میں دو  قسم کے فائبر بھرپور مقدار میں موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے  اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مثالی غذا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود فائبر شوگر کے سست اخراج  کو یقینی بناتا ہے اور انسولین کو حرکت میں ...

مفت بلاگ بنائیں اور گھر بیٹھے کمائ کریں۔ قرنطینہ میں بہترین کام۔

Image
بہت سارے دوست مجھ سے بلاگ کے ذریعے کما  نےکے بارے میں پوچھتے ہیں۔ لہذا میں آج اس کا حل لے کر آیا ہوں۔ بلاگ حاصل کرنا آسان ہے لیکن کمائی شروع کرنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ لہذا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کوئی رقم  کما نہیں رہے ہیں تو آپ کو مایوس  نہیں ہونا۔ بلکہ صبر اور پوری ترغیب کے ساتھ ، اپنے بلاگ پر پوسٹ کرتے رہنا ہے اور زیادہ زائرین کو راغب کرنے کی کوشش کرنی ہے۔مثال کے طور پر آپ کھیلوں کی تازہ ترین اپڈیٹس کے حوالے سے  ایک بلاگ ترتیب دینے جارہے ہیں۔ سپورٹس کی خبروں سے چلنے والی تمام ویب سائٹ اور بلاگز کی معلومات اکٹھا کریں۔ اس سے آپ کو مزید مدد ملے گی  مفت بلاگ کیلئے سب سے پہلے آپکو چاہئے ایک عدد گوگل اکاؤنٹ۔  اپنے بلاگ کو مفت میں حاصل کرنے کے لیئے  ، آپ کے پاس گوگل اکاؤنٹ اور گوگل آئی ڈی ہونا ضروری ہے۔ @ gmail.com ۔ اگر آپ کے پاس گوگل اکاؤنٹ نہیں ہے تو آج ہی اپنا گوگل اکاؤنٹ بنا لیں۔ - گوگل اکاؤنٹ حاصل کرنے کے بعد www.blogger.com پر اپنا اکاؤنٹ مرتب کریں۔ - بلاگر آپ کے بلاگ کے ساتھ قدم بہ قدم آپ کی رہنمائی کرے گا۔ تو آپ کا آئیڈیا...

ذیابطیس کے علاج میں ٹیکنالوجی کا کردار

Image
ذیابطیس کے علاج کے لیے نئی نئی نٹیکنالوجی کا  متعارف ہونا ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ چند سالوں میں گلوکوز لیلول چیک کرنے جیسے عام سے عمل میں ہی کافی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ذیابطیس کو اعتدال میں رکھنے کے مختلف رُجحانات یا طریقے کار موجود ہیں۔ آسان دیکھ بھال جدید ایجادات نے ذیابیطس کے علاج اور گلوکوز لیول کو چیک کرنا نہایت آسا ن بنا دیا ہے۔ جیسے اسمارٹ فون اور سمارٹ واچ جیسے آلات۔ پوری دُنیا میں اسمارٹ فون کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی 5 کروڑسمارٹ فون صارفین موجود ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی حیران کُن بات نہیں کہ اسمارٹ فون لوگوں کی ذیابیطس سے متعلق دیکھ بھال میں اُنکے بہترین مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اسمارٹ فون میں ایسی ایپلیکیشنز موجود ہیں جو آپکی صحت سے متعلق تمام اعداد و شمار کو ترتیب سے رکھتے ہیں اور علاج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئی معلومات اور رُجحانات بھی آپ تک پہنچاتے ہیں۔ گلوکوز میٹر اسمارٹ فون پر مبنی میڈ ورکس پاکستان میں لایا گلو سیج جو ایک ایسا گلوکوس میٹر ہے جو میڈ ورکس کی موبائل ایپلیکیشن پہ چلتا ہے۔...

دل کی بیماری اور آپکا قد۔ چھوٹے قد والے اپنا خیال رکھیں۔

Image
برطانیہ   میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ آپ جتنے قد میں چھوٹے ہوتے ہیں، آپ کو اتنا ہی زیادہ دل کی بیماری کا خطرہ رہتا ہے۔ انھوں نے 2 لاکھ افراد پر تحقیق کر کے ان کے ڈی این اے کے اس حصے کا پتہ لگایا جو قد اور دل کی صحت کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماری کا امکان 13.5% کم ہو جاتا ہے۔ تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ چھوٹے قد کے افراد کو اس سے غیر ضروری طور پر پریشان نہیں ہونا چاہیے اور ہر کسی کو صحت مندانہ طرز زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں دل کی بیماری، جس میں دل کا دورہ اور ہارٹ فیلیئر شامل ہیں، اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہر سال اس سے یہاں000 73  سے زیادہ افراد کی موت ہوتی ہے۔ 50 سال پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ دل کی صحت میں انسانی قد کا کلیدی کردار ہے لیکن تحقیق کاروں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ کئی اور وجوہات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے جیسا کہ بچن میں غذا کی کمی سے قد پر اثر پڑتا ہے جس کا اثر دل پر ہو سکتا ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف لیسٹر کی ت...