Posts

کورونا وائرس- ملازمت پیشہ لوگوں کیلئے خطرہ کی گھنٹی۔

Image
اسلام آباد- وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے سبب تین ماہ میں معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ دو سے ڈھائی ہزار ارب روپے لگایا ہے جبکہ اس سے ایک کروڑ23 لاکھ سے ایک کروڑ 85 لاکھ تک افراد بیروزگار ہوجائیں گے۔نقصان کا انحصارکم درجہ ،درمیانے درجہ اور مکمل لاک ڈاون کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی میں ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں لاک ڈاون سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار پرغورکیا گیا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس اور مختلف سرکاری اداروں کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔وزارت منصوبہ بندی نے محدود لاک ڈاون کی صورت میں نقصان کا تخمینہ ایک ہزار 200 ارب، درمیانے لاک ڈاون کی صورت میں ایک ہزار960 ارب اورمکمل لاک ڈاون کی صورت میں ڈھائی ہزارارب ڈالر لگایا ہے۔ نقصانات کا یہ تخمینہ کاروباری نقصانات، ٹیکس ریونیو کے نقصانات،عالمی تجارت کے نقصانات اور بیروزگاری پھیلنے سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔حکومت کے یہ ابتدائی اعداد و شمار سابق حکومت کے دوعہدیداروں حفیظ پاشا اور شاہد کاردارکے اندازوں سے بہت زیادہ ہیں جنہوں...

شاہد آفریدی کا بڑا اعلان اور عالمی کرکٹرز کی حمائیت۔

Image
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں شاہدآفریدی انسانیت کی خدمت کے لئے کام کرتے نظر آئے وہیں ان کا ساتھ دینے کے لئے بھارتی کرکٹر زبھی میدان میں آگئے ۔   دنیا اورخصوصا جنوبی ایشیا اس وقت مہلک وائرس سے جنگ لڑرہی ہے ، پاکستان کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی  بھی اس مشکل وقت میں انسانیت کی خدمت کےلئے پیش پیش ہیں ۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں شاہد آفریدی کی مدد کی اپیل نے جہاں مقامی کھلاڑیوں اور شائقین کی توجہ مبذول کی وہیں بھارتی کرکٹ لیجنڈزیووراج سنگھ اور ہربھجن سنگھ بھی اس کارخیر میں حصہ لینے کی حمایت کی ۔  سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ ٹوئٹر پرویڈیوپیغام دیتے ہوئے آفریدی فاؤنڈیشن  کوسراہتے ہوئے  نظر آئے یہ بھی پڑھیں۔ کورونا وائرس۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر ۔ کورنا وائرس سے لڑتے ڈاکٹرز کی موج مستیاں اس ویڈیو میں۔

کورونا وائرس۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر۔

Image
لاہور- کورنا وائرس سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جو کہ پاکستانیون کیلئے خوف کی فزاء کم کرنے میں مدد کرے گی۔ صدیق جان کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستانی اس خطرناک وبا سے محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر نے کوروناوائرس سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اٹلیمیں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جو پاکستان کیلئے ایک حوصلہ افزاء بات بھی ہے۔ ڈاکٹر سجاد نور نے کہا کہ ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے میڈیا بہت زیادہ سنگین صورتحال دیکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کوروناوائرس کے باثر اموات کی شرح 2 سے 3 فیصد تک ہے تاہم اٹلیمیں شرح اموات 8فیصد ہے۔ اٹلی میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق مرنے والے 99 فیصد افراد ایک یا ایک سے زیادہ بیماری میں مبتلا تھے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اٹلی کی 27فیصد آباد کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے جبکہ مرنےو الوں کی اوسط عمر60 سال ہے۔ 73 فیصد ہلاکہونے والے مرد تھے۔ ڈاکٹرسجاد نور نے کہا کہ پاکستانیوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں صرف 4فیصد افراد 60 سال سے زیادہ کی عمر میں ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ صرف اپنے بزرگوں کا خیال رکھے انہیں ٓ، تاکہ کورونا وائرس ان...

ایک اور جنگ کی تیاری۔

Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو بڑی دھمکی دے دی ،ایران ،عراق میں امریکی فوج یا تنصیبات کو اگر نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اُسے اِس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی ،کورونا کے خلاف ہر محاذ پر پوری طاقت سے لڑ رہے ہیں اور عوام کی طاقت سے جلد اس عالمی وبا کے خلاف کامیابی حاصل کر لیں گے ۔تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک  ٹویٹ میں  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران ،عراق  میں امریکی فوجیوں یا امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اسُے اِس  کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی دوسری طرف وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ہر ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے لڑ رہے ہیں اور امریکی عوام کی مدد سے اس وبا کے خلاف مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر  لڑنے والے ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنے ملک کی طبی سامان بنانے والی کمپنیوں ،سپلائرز اور صنعت کاروں ک...

کورونا وائرس۔ دوسری جنگ عظیم کیبعد سب سے بڑا بحران۔ آنے والے وقت کیا مشکلات در پیش ہوں گی؟

Image
گزشتہ برس دسمبر میں چین سے منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے ایک سو نناوے ممالک میں 42000  سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ آٹھ لاکھ بہتر ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اس کورونا وائرس  کو عالمگیر وبا قرار  دے کر خبر دار بھی کر چکی ہے کہ اگر دنیا نے وائرس پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو اس سے پوری عالم انسانیت کو خطرہ ہے اور  لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ یو این کی جانب سے امیر ممالک سے اپیل بھی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے غریب ممالک کو بارہ ارب ڈالر امداد کی فوری ضروت ہے۔ گزشتہ روز یورپی ممالک میں وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ کی گئی جب کہ امریکا ایک ہی روز میں آٹھ سو ہلاکتوں کے بعد اموات کے اعتبار سے چین سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سات سو سے زائد ہو چکی ہے جب کہ چین جہاں دنیا میں سب سے پہلے وائرس آیا تھا وہاں اموات کی تعداد تین ہزار دو سو بیاسی ہے۔ اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ...

کورونا سے بھی خطرناک وائرس جس نے 5 کروڑ زندگیاں نگل لیں۔

Image
  میں 1918 انفلوئنزا وبائی بیماری  تاریخ کی سب سے شدید وبائی بیماری تھی۔ یہ H1N1 وائرس کی وجہ سے ہوا۔ اگرچہ اس وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی اس کے بارے میں  اتفاق رائے نہیں ہے ، لیکن یہ 1918-1919 کے دوران دنیا بھر میں پھیل گیا۔ ریاستہائے متحدہ میں ، پہلی بار اس کی شناخت موسم بہار 1918 میں فوجی جوانوں میں ہوئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 500 ملین افراد یا دنیا کی ایک تہائی آبادی اس وائرس سے متاثر ہوگئی۔ دنیا بھر میں اموات کی تعداد کم سے کم پانچ کروڑ  بتائی گئی تھی جس میں امریکہ میں تقریبا 675،000 اموات واقع ہوئیں۔ 5 سال سے کم عمر ، 20-40 سال ، اور 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں اموات کی شرح زیادہ تھی۔ صحت مند لوگوں میں بڑی شرح اموات ، بشمول 20-40 سال کی عمر کے افراد کی تھی۔ اس وبائی مرض کی ایک انوکھی خصوصیت تھی۔ اگرچہ 1918 H1N1 وائرس کی ترکیب اور تشخیص کی گئی تھی ، لیکن اس کی خاصیت بخوبی سمجھ میں نہیں آئ۔ انفلوئنزا انفیکشن سے بچانے کے لئے کوئی ویکسین نہیں تھی اور ثانوی بیکٹیریل انفیکشن کے علاج کے لئے کوئی اینٹی بائیوٹکس نہیں تھیں جو انفلوئنزا انفیکشن کو...

جنرل ضیاء الحق کی دھمکی اور بھارت کی پسپائ۔ یہ غازی یہ تےرے پر اسرار بندے۔

Image
ضیاء الحق شہیدؒ جیسا نہ تھا کوئی نہ ہے نہ ہوگا  فروری 1987 میں جب عمران خان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور وہ ہندوستان میں کئی روز سے سیریز میں پانچ ٹیسٹ اورچھ  ون ڈے کھیلنا تھے تب بھارت اور پاکستان کے حالات کشیدہ ہوگئے تھے تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے اس وقت کے غیرت مند صدر ضیاءالحق نے بھارت کا غیرسفارتی دورہ کیا اور بن بلائے دہلی پہنچ گئے  ضیاءالحق کی اس طرح آمد سے اندراگاندھی کے مغرور بیٹے کے غرور کا وزن کچھ اور بڑھ گیا۔ اس نے جنرل ضیاءالحق سے ملنے سے انکار کردیا لیکن بھارتی اپوزیشن اور کابینہ نے راجیوگاندھی کو سمجھایا کہ آپ کے ایسا کرنے سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں ملے گا‘ یہ سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے۔ بادل نخواستہ راجیوگاندھی ضیاءالحق سے ملنے کیلئے تیار ہوگئے اور جنرل ضیاءالحق کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر چلے آئے ۔ ایئرپورٹ پر راجیوگاندھی نے جنرل ضیاءالحق کا سردمہری سے استقبال کیا۔ ادھر جنرل ضیاءالحق مسکرائے جارہے تھے۔ راجیو گاندھی نے جنرل ضیاءالحق کو دیکھے بغیر بے جان مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا اور اپنے معاون خصوصی سے کہا کہ جنرل ضیاءالحق میچ دیکھنے چنائے جانا چا...

قرنطینہ کیا ہے ؟ صرف 15 دن کیوں ؟

Image
دنیا میں جب انسان نے سفر کے سمندری ذریعے ایجاد کر لیے۔ بحری جہاز بنائے اور براعظم براعظموں سے رابطے میں آ گئے۔ یہ بحری رابطے ایک خطے کی بیماریاں دوسرے خطوں تک پہنچانے لگے۔ یورپ میں طاعون پھیلا تو اس نے ایشیا اور افریقہ کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ ٹی بی آئی تو یہ میڈی ٹیرین سی تک پوری دنیا میں لاشیں بچھاتی چلی گئی۔ چیچک‘ خناق‘ کالی کھانسی اور خسرہ آیا تو یہ بھی چند ماہ میں پوری دنیا میں پھیل گیا‘ انسان نے ان اموات سے سیکھا آپ ہر شخص کو فوری طور پر اپنے شہر‘ اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دیں چناں چہ سمندروں کے کنارے احاطے بنا دیے گئے اور بحری جہازوں سے اترنے والے لوگوں اور عملے کے لیےچالیس دن ان احاطوں میں رہنا لازم قرار دے دیا گیا‘ یہ چالیس دن کیوں؟ انسان نے تجربوں سے سیکھا کہ ہمارے جسم میں چالیس دن بعد ہرچیز تبدیل ہو جاتی ہے‘ صرف انسان کے دماغ‘ دل اور آنکھوں کے خلیے مستقل ہوتے ہیں‘ یہ نئے نہیں بنتے‘ باقی سارا جسم خود کو بناتا اور توڑتا رہتا ہے۔ یہ شکست وریخت زیادہ سے زیادہ چالیس دن میں مکمل ہو جاتی ہے چناں چہ اگر انسان کے جسم میں کوئی بیماری موجود ہے تو یہ چالیس دن میں سامنے آ جاتی ہے ...

کورونا وائرس۔ پاکستان میں کورونا کی تباہ کاریاں اور حکومت کے ایمرجینسی اقدامات۔

Image
اسلام آباد: پاکستان میں کورونا سے بیس افراد  ہلاک اور 1 ہزار 717  متاثر ہو چکے ہیں۔ کورونا کے سب سے زیادہ 628   مریض پنجاب میں ہیں جب کہ سندھ میں بھی 535  شہریوں میں وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں 217   اور بلوچستان میں 152 کیسز سامنے آئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 128، اسلام آباد میں 51 اور آزاد کشمیر میں 6 مریض مووجود ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب سندھ میں چھ، پنجاب6، خیبرپختونخوا6، بلوچستان1 اور گلگت بلتستان میں بھی کورونا کے سبب ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کورونا کے خلاف ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کوہم لاک ڈاوَن کریں گے وہاں ٹائیگر فورس رضا کار کھانا پہنچائیں گے۔ عمران خان نے  پرائم منسٹرکورونا ریلیف فنڈ بنانےکا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس میں جمع رقم پرکوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ بیرون ملک پاکستانی ریلیف فنڈمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔ پنجاب حکومت نےکورونا سےتحفظ اور پھیلاؤ روکنےکا آرڈیننس جاری کردیا جس کے تحت حکومت کسی بھی طرح کی پابندی کہیں بھی لگا...

کورونا وائرس۔ 6 خطرناک طبی مشورے۔ ان سے بچ کر رہیں۔

Image
کورونا وائرس: بیماری سے بچاؤ اور علاج کے وہ چھ جعلی مشورے جنھیں آپ کو نظر انداز کرنا چاہیے کورونا وائرس بہت تیزی سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور اب تک اس کا مصدقہ علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے آن لائن طبی مشورے دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض مشورے بیکار مگر بےضررسے ہیں مگر بعض انتہائی خطرناک۔ ہم نے بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کیے جانے والے اس نوعیت کے دعوؤں کا جائزہ لیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔ ۔ لہسن سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر بہت سی ایسی پوسٹس شیئر کی گئی ہیں جن میں تجویز دی گئی ہے کہ لہسن کھانا انفیکشن کی روک تھام میں مدد گار ہو سکتا ہے۔    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ لہسن ’ایک صحت بخش غذا ہے جس میں کچھ اینٹی مائیکروبائل (جراثیم کے خلاف مدافعت) خصوصیات ہو سکتی ہیں‘ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ لہسن کھانے سے لوگوں کو کورونا وائرس سے تحفظ مل سکتا ہے۔ اس طرح کا علاج اس وقت تک مضر صحت نہیں ہے جب تک آپ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس حوالے سے...